ایس ایچ او تھانہ لورہ منشیات فروشی کو کنٹرول کرنے میں مکمل ناکام ہوچکا ہے ،زمین کے تنازعات کے حل تک محدود
ایبٹ آباد(وقائع نگار) ضلع ایبٹ آبادکی تحصیل لورہ منشیات فروشی کا گڑھ بن گیا جبکہ ایس ایچ او تھانہ لورہ ہارون خان منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے،منشیات کے زہر کی وجہ سے نئی نسل تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی،ڈی پی او ایبٹ آباد فوری طور پر نوٹس لیں۔تحصیل لورہ جو اپنے محل و وقوع اور جغرافیہ کی وجہ سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے وہیں پر تھانہ لورہ کی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔صوبہ خیبر پختونخواہ ضلع ایبٹ آباد کی تحصیل لورہ کی حدود پنجاب اور وفاقی دارلحکومت اسلام آباد دونوں سے ملتی ہیں۔اس وقت یہاں پر منشیات کا دھندہ اپنے عروج پر ہے۔بین الصوبائی اسمگلروں کے تین اہم راستے ہیں ایک ضلع ہری پور کے تربیلا ڈیم لانچ کے زریعے منشیات کھلا بٹ ہری پوربراستہ سوکھا نالہ حویلیاں شاہ مقصود بگڑہ جبری کوہالہ لورہ چھانگلہ گلی باڑیاں لورہ روڈ، دوسرامنشیات کا بڑا اڈا اٹھال بڑوہا، رکھالہ، گھمبیرلورہ،نگری باڑیا ں گلیات روڈ جبکہ تیسراجبری ستوڑہ، چنالی نگری باڑیاں گلیات راستہ ہے۔ان تین راستوں کو استعمال کرکے بین الصوبائی اسمگلر منشیات یہاں پہنچاتے ہیں اور پھر یہاں سے آگے اسمگل ہوتی۔ایس ایچ او تھانہ لورہ ہارون خان جب پہلی بار 2017میں لورہ تھانے میں تعینات ہوا تو اس نے منشیات اسمگلروں کے خلاف بھرپور کاروائیاں کیں اور بہت سے اسمگلروں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کردیا مگر اس بار عوام کو ہارون خان سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں لیکن اس بار ہارون خان مکمل تبدیل ہوچکا تھا جس نے ایک دو منشیات پینے والوں کو پکڑ کر کاغذی کاروائی پوری کی اور بڑے منشیات فروشو ں اور اسمگلروں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہیے۔زرائع کے مطابق ایک مخصوص مافیا نے ایس ایچ او تھانہ لورہ کو قابو کر رکھا جنھوں نے ایس ایچ او کو زمینوں کے معاملا ت میں الجھایا ہوا ہے ہارون خان اب صرف زمینوں معاملات دیکھ رہا ہے اور متنازعہ زمینوں کی نشاندہی اور قبضے کا کام کررہا۔مختلف پٹواریوں کے ساتھ بھی ایس ایچ او کے رابطے ہیں اور جو کام محکمہ مال کا ہے وہ ایس ایچ او کر رہا ہے۔تھانہ لورہ کی حدود میں قائم پولیس چوکیوں کی کارکردگی بھی صفر ہے پولیس چوکی گھمبیر اور پولیس چوکی سونٹھی بدنال کے اہلکار مجرموں کو پکڑنے کے بجائے لوڈنگ سوزوکیوں اور دوسری گاڑیوں سے مبینہ طور پر نذرانہ لینے کے علاوہ اور کوئی کام ہی نہیں کرتے۔منشیات کی وجہ سے نئی نسل تیزی سے تباہ ہورہی ہے،سکولوں اور کالجز کے طلبہ اس لعنت کا شکار ہورہے ہیں۔عوامی حلقوں نے فوری طور پر بڑے منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی اور ایس ایچ او تھانہ لورہ کے خلاف سخت محکمانہ انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔