osama ali abbasi

حضرت خواجہ میر احمد خان عباسی چشتی قادری تونسویرحمت اللہ تعالی علیہ 

تحریر:اسامہ علی عباسی

الله رب العزت کے ہاں مقبول بندوں کی کمی نہیں اور وہ جسے چاہتے ہیں اپنی رحمت کی آغوش میں لیکر اسے مرتبہ ولایت پر براجمان کردیتے ہیں۔

ایسے ہی ایک نیک سیرت شخص جو ایک عبادت گزار اور تہجد گزار شخص حضرت غلام علی خان عباسی کے آنگن میں 1810ء کو بیروٹ کلاں، چھجہ شریف میں پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی ساری زندگی دین اسلام کی سربلندی اور خدا تعالی کی معرفت میں بسر کی جو اپنے وقت کے ایک صاحب شریعت و طریقت ولی کامل گزرے جنکا نام حضرت خواجہ میر احمد خان عباسی رحمت اللہ تعالی علیہ تھا۔ آپکی ولادت باسعادت 1810ء کو نیک سیرت اور عبادت گزار شخص حضرت غلام علی خان عباسی کے ہاں ہوئی۔ آپ سردار نوائس علی خان عباسی شہید کے پوتے تھے اور آپ اپنے بھائی نمبردار سردار جمیعت علی خان عباسی کے بڑے بھائی تھے جو بچپن سے ہی دین اسلام کی طرف راغب تھے۔ ابتدائی دینی تعلیم اپنے آبائی گاؤں سے ہی حاصل کی اور دینی سلسلہ تعلیم و تربیت کے لیے مختلف مدارس اور بالآخر تونسہ شریف، ڈیرہ اسماعیل خان میں حضرت خواجہ شاہ سلیمان تونسوی چشتی المعروف حضرت پیر پٹھان رحمت اللہ تعالی علیہ کے مدرسے میں زیر تعلیم رہے۔ آپ نے وقت کے کامل شیخ حضرت خواجہ شاہ سلیمان تونسوی کے زیر سایہ شریعت و طریقت کی منازل طے کی اور  ایک باشرع اور جید عالم دین  و کامل بزرگ ٹھہرے۔ تصوف میں  آپکا سلسلہ طریقت چشتیہ تھا اور اسکے علاوہ محبوب سبحانی الشیخ سید عبدالقادر جیلانی رحمت اللہ تعالی علیہ کے عقیدت مند بھی تھے، اسکے علاوہ شیوخ قادریہ سے بھی آپکو کمال فیض حاصل ہوا، باین وجہ آپکو دو سلسلہ جات چشتیہ و قادریہ سے فیض و نگاہ کامل حاصل ہوئی اور آپ چشتی قادری تونسوی بزرگ ٹھہرے۔ تونسہ شریف سے ہی آپ 1841ء کو  پیدل قافلے کیساتھ بیت اللہ شریف کے حج کے لیے  روانہ ہوئے اور واپسی پر نجف اشرف و کربلائے معلی، عراق میں اہلبیت اطہار اور روضہ مبارک حضرت علی و سیدنا امام حسین علیہم السلام پر حاضری دی۔ بعد از تعلیم و تربیت آپ اپنے پیر و مرشد کے حکم پر  پنڈی گھیب میں مدرسے و خانقاہ میں بحیثیت استاد بھی تدریسی فرائض سرانجام دیتے رہے اور وہیں سکونت اختیار کی۔ تونسہ شریف میں طویل عرصہ سکونت اختیار کرنے کے سبب پہاڑی کی بجائے آپکی زبان سرائیکی رہی کیونکہ آپ سن بلوغت کے قریب ہی تونسہ شریف مدرسے میں طلب علم و سلوک کی نیت سے چلے گئے تھے اور طویل مدت اور کئی سالوں بعد واپس پختہ جوانی کے دور اپنے بھائی جمیعت خان کی تلاش و درخواست پر ہی اپنے آبائی علاقہ بیروٹ کلاں میں واپس سکونت پزیر ہوئے تھے۔

آپکے پیر و مرشد حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی المعروف حضرت پیر پٹھان رحمت اللہ تعالی تھے۔ آپکا دور حیات 1770 عیسوی سے لیکر 1850 عیسوی تھا۔ حضرت خواجہ شاہ سلیمان تونسوی رح جو کہ برصغیر پاک و ہند میں ایک عظیم مصلح اور روحانی پیشواء تھے۔ آپ کا تعلق سلسلہ عالیہ چشتیہ سے تھا۔ہندوستان، پاکستان اور افغانستان میں سینکڑوں مشائخ آپ کو اپنا روحانی مورث تسلیم کرتے ہیں۔ آپ کی رشدوہدایت سے برصغیر پاک و ہند کا کونہ کونہ منور ہوا، برصغیر سے باہر افغانستان، وسط ایشیا، ایران، عراق، شام اور حجازمقدس تک آپ کا فیض پہنچا۔حضرت میر احمد خان عباسی عین جوانی میں ہی گھر سے دور خانقاہ اور مدرسوں میں زیر تعلیم رہے اور قریبا 33 سال کی عمر میں اپنے بھائی جمیعت علی خان عباسی کے کہنے اور انکی تلاش پر ہی واپسی  آپ نے اپنے آبائی علاقے چھجہ شریف، بیروٹ میں اپنے چھوٹے بھائی نمبردار سردار جمیعت علی خان عباسی کیساتھ ہی اپنا مسکن بنایا۔ آپکی بزرگی اور مقام مرتبے کا یہ عالم تھا کہ سرکل بکوٹ کی مشہور و معروف درگاہ کے بزرگ حضرت پیر فقیراللہ بکوٹی رح جو اپنے دور کے ایک عظیم مذہبی پیشواء اور رہنما گزرے ہیں جنہوں نے اپنے نور تجلیات سے پورے خطہ کوہسار مری، ہزارہ اور کشمیر کو منور کیا آپکی وفات کیبعد جب انکی آمد بیروٹ کلاں میں ہوئی تو پوری زندگی آپ میرہ بیروٹ کے مقام سے اپنے گھوڑے سے اتر کر پیدل سفر اختیار کرتے اور گھوڑے پر سواری نا کرتے۔ کسی محب نے سوال کیا کہ حضور آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ تو حضرت پیر فقیر اللہ بکوٹی قادری الحنفی رحمت اللہ تعالی علیہ نے فرمایا کہ یہاں پر ایک بزرگ میر احمد خان کی قبر موجود ہے میں اسکے احترام میں یہاں سے پیدل سفر اختیار کرتا ہوں کیونکہ میرا دل گوارا نہیں کرتا کہ وہ مٹی کے نیچے سویا ہوا ہوں اور میں گھوڑے کی پشت پر سوار ہو کر یہاں سے سفر کروں۔ حضرت میر احمد خان عباسی نے درس و تدریس اور فقہ میں مہارت حاصل کرنے کیبعد سلسلہ طریقت میں قدم رکھا ۔ آپ وقت کے کامل عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک باشرع صوفی بزرگ اور وقت کے کامل ولی تھے۔ گاؤں بیروٹ کلاں کی پہلی جامع مسجد کی بنیاد 1845ء کو آپ نے چھجہ شریف، بیروٹ میں رکھی جو کہ آج بھی موجود ہے۔ آپ نے وہاں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور لوگوں کو دین اسلام کی تعلیمات سے روشن اور منور کیا۔ آپ بچوں کو ناظرہ اور قرآن مجید پڑھاتے تھے اور بڑوں کو وعظ و نصیحت کرتے۔ آپ نے اپنی رہائش کے لیے مسجد سے متصل ہی ایک چھوٹا سا کمرہ بنا رکھا تھا جسکا ایک دروازہ براہ راست مسجد کی جانب کھلتا تھا، آپ نے گوشہ نشینی کی زندگی اختیار کی اور مخلوق سے سلسلہ منقطع کیا۔ آپ ہمیشہ چلہ نشینی، تسبیحات اور یاد الہی میں رہتے۔ چھجہ شریف میں ایک پتھر کی وسیع چٹان موجود ہے جہاں آپ نماز و چلہ کشی کرتے تھے یہاں تک کہ مشہور روایت میں یہ بات درج ہے کہ جب آپکا عشق الہی بڑھا کہ آپکو حضور غوث الاعظم  الشیخ محی الدین عبدالقادر الجیلانی رح کی نگاہ مبارک کا فیض حاصل ہوا اور آپ پر سیدنا امام حسن و حسین پاک علیہم السلام کی نگاہ مبارک ہے۔ بیروٹ کی تاریخ میں پہلی جامع مسجد 1845ء کو چھجہ شریف میں رکھی گئی اس کے بعد سادات مشہدیہ کی آمد کیبعد جامع مسجد غوثیہ بگلوٹیاں اور پھر حضرت پیر فقیر اللہ بکوٹی قادری رح جب بیروٹ میں آکر آباد ہوئے تو جامع مسجد کھوہاس کی بنیاد رکھی گئی جو کہ قریبا 1901ء کے عشرے میں رکھی گئی۔ حضرت میر احمد خان عباسی نے ہمیشہ گوشہ نشینی اور چلہ کشی میں زندگی بسر کی، چھجہ شریف میں ہارون الرشید عباسی صاحب جو کہ انگلینڈ سکول آف بزنس اینڈ اکنامکس سے فارغ التحصیل ہیں انکے عقب میں ایک بڑی پتھر کی چٹان موجود ہے جہاں پر مشہور روایت ہے کہ حضرت میر احمد خان وہیں چلہ کش ہوئے اور نماز ادا فرماتے۔ اسکے قریب ہی کہو کا مبارک درخت تھے جو کہ اس پر سایہ کیے ہوئے تھے، مکانات کی تعمیر میں اب زیادہ تر کہو کے درخت کاٹ دیے گئے، بڑا خوبصورت اور حسین مقام ہے جہاں سے مشک پوری کا پہاڑ سامنے دکھائی دیتا ہے، جب سورج طلوع ہوتا ہے تو ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے نور کی کرنیں اس چٹان پر پڑ رہی ہوں اور کیوں نا ہو؟ جس مقام کو اولیاء اللہ اپنے جائے نماز اور مسکن بنائیں وہاں نور کی برسات برستی رہتی ہیں۔ سلسلہ طریقت میں قادریہ ہونے کے باعث آپ صوم و صلوۃ کے سخت پابند اور تہجد گزار تھے، لوگوں سے عموما کم گفتگو فرماتے، زیادہ تر وقت اپنے حجرے میں بسر کرتے۔ آپکے ہاں ایک ہی بیٹے کی پیدائش ہوئی جنکا نام سلطان احمد علی خان عباسی رکھا گیا جو کہ جوانی میں ہی اللہ تعالی کو پیارے ہوگئے بایں وجہ آپکا سلسلہ نسب منقطع ہوگیا۔ آپکے بھائی جمیعت علی خان عباسی اپنے وقت کے سردار اعلی اور بیروٹ کلاں کے پہلے نمبردار و جاگیردار تھے جنکے ہاں چار بیٹے نمبردار علی مرد خان عباسی، الحاج میر زمان خان عباسی ، دوست محمد خان عباسی المعروف بوسہ خان اور نور محمد خان عباسی تھے۔حضرت میر احمد خان عباسی نے ہمیشہ دین اسلام کی تعلیمات کا حکم دیا، غیر اقوام بالخصوص چھوٹی اقوام اور پیشہ ور اقوام سے ہمیشہ حسن سلوک، محبت اور عقیدت کا برتاؤ رکھا۔ انکی اولاد کو اپنی اولاد سمجھا اور ہمیشہ اپنی اولاد جیسا برتاؤ کیا یہی وجہ کہ مزارعین جنہیں بعض اقرباء قوم ڈھونڈ ظلم و جبر کا نشانہ بناتے رہے اور ناانصافی و ظلم کرتے رہے آپکی ذات سے اس قدر مانوس ہیں کہ مدتوں بعد بھی آپکے خاندان کی عزت و توقیر اسی لحاظ سے کرتے ہیں جیسے کہ وہ انکا اپنا خاندان ہو۔ دین اسلام میں سب مسلمان برابر ہیں اور ذات حق کے نزدیک عزت کا معیار فقط تقوی ہے جسکی عملی تصویر حضرت میر احمد خان مرحوم تھے۔ اللہ رب کریم ہمیں تمام اقوام عالم سے حسن سلوک کرنے کی توفیق عنایت فرمائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں