amjad butt

سرکاری سکول پر عدالتی قبضہ

امجد بٹ ۔ مری

ملکۂ کوہسار کی تاریخ میں ایسے واقعات تو سنتے آئے ہیں کہ کمزور اور غریبوں کی زمین پر امیر رشتے دار ، ہوٹل مافیا اور قبضہ گروپ نے اپنا تسلط جما لیا ہے لیکن ایسے واقعات کو میڈیا نے وہ شہرت نہیں دی جو مری میں جھیکا گلی کے مقام پر واقع گورنمنٹ ایم سی بوائز ہائی سکول کو ملی ہے۔

معروف صحافی انصار عباسی کا جیو نیوز پر چلنے والا پروگرام ملک بھر میں عدالتی نظام اور جج حضرات کو ایسا حکومتی قبضہ گروپ ثابت کرنے کا باعث بنا جو عدالتی سرپرستی میں اپنے ریسٹ ہاؤس بنانے کے لیے نہ صرف سو سالہ قدیم تعلیمی و ثقافتی ورثے کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ یہاں زیر تعلیم قریباً اڑھائی سو طلباء وطالبات کا مستقبل تاریک کرنے کا بھی ذمہ دار ہے۔
ملحقہ دیہاتوں کی گزشتہ چار نسلیں بھی اسی سکول میں زیر تعلیم رہی ہیں۔ اس قبضے کے خلاف زیر تعلیم بچوں کے والدین اور اہلِ علاقہ نے مری کی عدالت ، جج حضرات اور وکلاء کے خلاف جھیکا گلی کے مقام پر جلوس نکال کر نعرے بازی بھی کی اور اپنی تقاریر میں الزام لگایا کہ مری عدالت نے اپنی زمین اور تعمیرات کو توسیع دینے کے لیے سکول کی قریباً9 کنال زمین میں سے لگ بھگ تین کنال پر حکومتی ملی بھگت سے کاغذی انتقال کروا لیا ہے اور عدالتی وفد نے سکول میں آ کر سکول کو دوسری جگہ منتقل کرنے یا زیر تعلیم بچوں کو مع مدرسین قریبی سرکاری سکولوں میں کھپانے کا پروگرام بھی پیش کر دیا ۔ والدین نے یہ ذکر بھی کیا کہ ہم انتہائی غریب ہیں اور اپنے اڑھائی سو بچوں کو سنی بینک یا مری سکولوں میں بھیجنے کے لیے روزانہ فی کس دو سو روپے کرایہ اور جیب خرچ نہیں دے سکتے۔ عوامی رائے کے مطابق ہٹ دھرمی اور تعلیم دشمنی کی انتہا اُس وقت ہو گئی جب سکول کی زمین پر مجوزہ قبضے کے خلاف چلنے والی تحریک میں پیش پیش تین نمائندوں کے خلاف مری بار وکلاء کی طرف سے ایف آئی آر کٹوا کر انہیں ڈرانے کی کامیاب کوشش کی گئی۔ متبادل انتظام کے بغیر طلباء وطالبات و سٹاف کو بے دخل کرنا بھی عدالتی نا انصافی کا منہ بولتا ثبوت ہوگا۔ جج صاحب، تحصیلدار اور گرداور کو سکول آ کر ادارہ ہتھیانے کا دعویٰ کرنے کے بجائے محکمۂ تعلیم کے ذریعے اور رقبے و عمارت کی اصل مالک بلدیہ مری کی وساطت سے نئے سکول کے مکمل لوازمات کا اہتمام کرنا چاہیے تھا ، جبکہ حماد سکندر اور اکمل محمود عباسی کے مطابق گورنمنٹ ایم سی ہائی سکول کو ٹیوٹا میں عارضی طور پر منتقل کرنے اور پُرانے سکول کو تالا لگانے کا ذکر بھی زبان زدِ عام رہا۔
قارئین کرام !
اس سارے قضیے میں درج بالا وہ مؤقف ہے جسے سکول انتظامیہ، والدین اور اہلِ علاقہ نے اختیار کیا۔ اب وہ مخفی حقائق بھی سُن لیجئے جو سوشل میڈیا کی یلغار میں  دب کر رہ گئے۔
ماہرینِ ارضیات اور 1911ء کے بلدیاتی قوانین (بائی لاز) کے مطابق ثقافتی ورثہ اُس قطعۂ زمین یا عمارت کو کہا جاتا ہے جس میں گزشتہ ایک صدی سے کوئی اضافہ یا تبدیلی واقع نہ ہوئی ہو جبکہ سکول کی زمین پر اس عرصہ میں این جی اوز ، اور پنجاب حکومت کی سرپرستی میں تین بار نئی تعمیرات اور تبدیلی و مرمت کا کام ہو چکا ہے، بلکہ سکول انتظامیہ نہ ماضی قریب میں سکول کی زمین پر بغیر اجازت ذاتی گھر بنانے کی مذموم کوشش بھی کی جبکہ محکمانہ پوچھ گچھ پر یہ کہہ دیا جاتا کہ محکمۂ تعلیم سکول کی عمارت بنوا رہا ہے ۔ لیکن حقائق سامنے آنے پر ٹی ایم اے مری نے ناجائز تعمیرات کو گرا دیا۔ روزنامہ ” اذکار” کے تراشے آج بھی اِس کے گواہ ہیں۔
تحصیل مری کے ضلع بننے کے بعد ضلعی حکومت کے تمام دفاتر کا مری منتقل ہونا اہل مری کے لیے انتہائی مفید اور ناگزیر ہے۔جن مقدمات کی پیروی اور اہم امور کے لیے غریب اہلِ مری کو پہلے راولپنڈی جانے کے لیے ہزاروں ، لاکھوں روپوں اور وقت کی قربانی دینا پڑتی تھی۔ ضلعی دفاتر مری منتقل ہونے سے اس دردِ سر سے جان چھوٹ جائے گی نیز ضلعے کی تمام سرکاری سہولتیں مقامی لوگوں کو مل سکیں گی۔ضلعی دفاتر کے قیام کے لیے جتنے محکمے مری منتقل ہوں گے حکومت سرکاری زمین میں سے اُن کو جگہ دینے کی پابند ہے۔ تاریخِ اسلام اور تاریخِ پاکستان گواہ ہے کہ اجتماعی ، قومی اور فلاحی مقاصد کے لیے مسجد کی جگہ بھی لی جا سکتی ہے تو سکول کیوں نہیں ؟ اور یہی دینی تعلیمات کی روح ہے۔ لیکن لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب محمد امیر بھٹی کی دانشمندی ملاحظہ ہو کہ اُن کا واضح حکم پہلے سے موجود ہے کہ جب تک قرب وجوار میں سکول کے موجودہ رقبے اور تسلی بخش تعلیمی ماحول والی عمارت تعمیر نہ ہو جائے، موجودہ سکول کے نظام اور تعلیمی ماحول میں دخل اندازی نہ کی جائے۔
اب سوچنا یہ ہے کہ غلط فہمی پیدا کرنے کے لیے رائی کا پہاڑ کیسے بنایا گیا اور انصار عباسی صاحب جیسے دیدہ ور و دانشور صحافی کو قبضہ گروپ گمراہ کرنے میں کیسے کامیاب ہو گیا۔ دراصل مسیاڑی وگڑھیاں دیہاتوں سے ملحقہ مری امپروومنٹ ٹرسٹ کالونی کی زمین کو اہلِ مسیاڑی اپنی آبائی اور موروثی زمین قرار دیتے ہیں اور اس سلسلے میں اصل دستاویزی ثبوت نہ ہونےکے باعث عدالتی مقدمات بھی ہار چکے ہیں لیکن حکومت پنجاب کی ملکیت اس زمین کے مختلف قطعات پر مقامی لوگ نہ صرف خود زبردستی قابض ہو چکے ہیں بلکہ دوسرے دیہاتوں سے با اثر صحافیوں اور پراپرٹی ڈیلروں کو بلا کر یہاں قابض کروا دیا گیا ہے تاکہ حکومتی اداروں کو بلیک میل کیا جا سکے ۔ جب حکومتی کارندے یہ نا جائز قبضہ چھڑانے جاتے ہیں تو ان کو نہ صرف قبضہ گروپوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ صحافتی قبضہ گروپ اپنے اور مقامی لوگوں کے ناجائز قبضوں پر پردہ ڈالنے کے لئے اخبارات اور ٹی وی چینلز پر حکومتی مظالم کا ڈھول پیٹنا شروع کر دیتا ہے اور یہی کچھ سکول والے معاملے میں ہُوا۔ حکومت کسی جانی نقصان کے پیشِ نظر سخت کارروائی نہیں کرتی اور اسی نرمی سے ناجائز فائدہ اُٹھایا جاتا رہا ہے۔ قبضہ گروپ اور سکول انتظامیہ نے ایم آئی ٹی کالونی کی ہزاروں کنال سرکاری اراضی ( ایکسپریس وے سے اپر جھیکا گلی روڈ تک) پر قبضے کر کے یہاں لا تعداد پختہ عمارات بنالی ہیں۔ جس میں سرکاری دفاتر خصوصاً ٹی ایم اے میں بیٹھے ان کے دوستوں اور رشتے داروں کا تعاون شامل رہا ہے۔
نسل در نسل سرکاری دفاتر میں بیٹھے اہلکار ملکۂ کوہسار کی تمام تجاوزات کے اصل ذمہ دار ہیں. اسی قبضہ گروپ نے انصار عباسی جیسے غیر جانبدار صحافی کو اپنے ناجائز قبضہ جات کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کیا وگرنہ سکول کے بچوں کے مستقبل ، تاریخی ورثہ اور غربت کا واویلا صرف اپنے مقبوضات کو تحفظ دینے کا ڈرامہ ہے تا کہ تمام ضلعی عدالتوں اور دفاتر کے لیے مری امپروومنٹ ٹرسٹ کی زمینوں پر سے ان کا ناجائز قبضہ ختم نہ ہونے پائے۔
پنجاب میونسپل ایکٹ 1911 ء کے سیکشن چار کے ذیلی دفعہ 3 کے مطابق حکومت پنجاب کے مراسلہ نمبر 501 مورخہ 16 دسمبر 1885 ء کی توثیق کے بعد درج ذیل علاقے میونسپل حدود میں شامل نہیں تھے لہذا اہلِ مسیاڑی کا دعویٰ ملکیت درست نہیں ہے اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ 1885 ء میں میونسپل حدود سے خارج ہونے والے سترہ دیہاتوں میں سے اہلِ مسیاڑی کے علاوہ کوئی حق ملکیت کا دعوے دار نہیں۔
شمال ( دریا گلی ، بن کوٹل، کھنی تاک ، اوڑا ، تپہ کیر) مشرق ( بیرگراں ہوکڑاکیر ، چارہان ) جنوب ( ارواڑی ، بڑا ہوتر ، مسیاڑی، نمبل ، لارنس کالج اور مری بروری اسٹیٹ) مغرب ( نمب، دھار جاوا اور سندھیاں)
سکول انتظامیہ نے بچوں کے والدین کو آگے لگا کر نہ صرف عدلیہ کے خلاف جلوس نکالے بلکہ مبینہ طور پر یہ تاثر بھی عام کیا کہ سکول کی جگہ پر عدالتی ریسٹ ہاؤس افسروں کے لیے عیاشی اور فحاشی کے اڈے ثابت ہوں گے۔جبکہ عدالت کا یہ مؤقف بھی ہے کہ سکول کی اساتذہ اور طلباء وطالبات کا عدالتی احاطے میں سے ہر طرح کے مجرموں اور پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں گزر کر جانا بھی نہ صرف بہت معیوب لگتا ہے بلکہ بچوں کو دورانِ تعلیم مجرموں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے
جھیکا گلی بازار تک الگ راستہ بنا کر بھی مسئلے کا حل نکالا جا سکتا تھا۔
سکول بچاؤ کے لیے رضا کارانہ جدو جہد کرنے والوں پر ایف آئی آر ایسا حفظِ ما تقدم تھا جو وکلاء کو ملنے والی دھمکیوں کا سدباب بن سکے نیز عوامی رائے کے مطابق جو سکول انتظامیہ عدالتی ریسٹ ہاؤس کو عریانی و فحاشی کا اڈہ قرار دلواتی رہی ہے محکمۂ تعلیم کے دفتر میں آج بھی اس کے خلاف خواتین اساتذہ کے ساتھ جنسی تشدد کی شکایات موجود ہیں کیونکہ مذکورہ اساتذہ نے رسوائی کے ڈر سے شکایت کی مزید پیروی نہیں کی اور ٹرانسفر کروا لی مگر خاتون ٹیچر کے لگائے گئے تھپڑ کی صدا آج بھی سکول میں سنی جا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ سکول انتظامیہ محکمۂ تعلیم کی طرف سے آرڈر نمبر 21535 مورخہ 11 اگست 2021ء کو 1: حقائق چھُپانے 2: حکام بالا کو دھوکا دینے اور 3: سکول کے کمروں کو کرائے پر چڑھانے کے جرم میں طویل عرصہ تک معطل رہنے کے بعد بحال ہوئی تھی۔

تو جن کو سمجھتا ہے کہ ہیں تیرے نگہبان
وہ تجھ کو ، ترے سرکی قسم  بیچ رہے ہیں

تازہ ترین صورتحال کے مطابق مری عدالت کے معزز جج نے سکول انتظامیہ کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرنے کے لیے معروف قانون دان جلیل عباسی کو نمائندہ مقرر کیا۔
موصوف نے مذکورہ سکول کے ہیڈ ماسٹر کو بلا بھیجا تو ہیڈ ماسٹر صاحب نے اپنی نمائندگی کے لیے سینئر ٹیچر ثاقب اور ذوالفقار شاہ کو بات چیت کے لیے بھیج دیا ۔ چونکہ ہیڈ ماسٹر صاحب قبضہ مافیا کے ہمراہ عدالتی پروگرام کی مخالفت میں تمام جلسوں اور تقریروں کے در پردہ محرک تھے لہٰذا وہ خود عدالتی نمائندوں سے گفتگو کے لیے سامنے نہ آئے ۔ ایڈووکیٹ جلیل عباسی نے تین جگہوں کی نشاندہی کی اور پیشکش کی کہ ان میں سے جہاں آپ چاہیں عدالت آپ کو معیاری سکول بنا کر دینے کے لیے تیار ہے۔ دونوں اساتذہ نے ہیڈ ماسٹر سکول کے نمائندوں کی حیثیت سے سڑک کے ساتھ والی جگہ پر اتفاق کیا اور جب سکول پہنچ کر ہیڈ ماسٹر اعجاز عباسی کو تفصیلات سے آگاہ کیا، تو ہیڈ ماسٹر نے دونوں اساتذہ کو اتنا بُرا بھلا کہا کہ’’ تمہیں فیصلہ کرنے کا حق کس نے دیا تھا ‘‘ پہلے انتہائی تلخ کلامی ہوئی اور پھر دونوں اساتذہ کے ساتھ ہیڈ ماسٹر کی ہاتھا پائی تک بات پہنچ گئی ۔ دونوں مذکورہ اساتذہ نے ہیڈماسٹر کے جارحانہ اور گالم گلوچ والے رویے کی شکایت محکمۂ تعلیم کے افسران سے کی۔ انکوائری ہوئی اور دونوں فریقین کو سمجھا کر راضی نامے کی کوشش کی گئی جو نا کام ہوئی اور دونوں اساتذہ اعجاز عباسی اور ثاقب صاحب کا تبادلہ بطور سزا گورنمنٹ ہائی سکول اوسیاہ میں کر دیا گیا۔ اعجاز عباسی نے اپنے ناجائز ذرائع استعمال کر کے تبادلہ رکوا لیا اور معلم ثاقب کو سکول میں حاضری لگانے سے روک دیا تا کہ غیر حاضر تصور ہو۔
یہ ساری صورتحال اس امر کی واضح دلیل ہے کہ سکول والی پرانی جگہ کو قبضہ مافیا کے ساتھ مل کر کیوں نہیں چھوڑا جا رہا۔ یہ قضیہ اُس وقت زیادہ فیصلہ کن مرحلے میں داخلہ ہوا جب مذکورہ سکول کے سارے سٹاف نے ہیڈ ماسٹر کے رویے سے تنگ آکر ایجوکیشن افسران سے تحریری درخواست کی کہ اعجاز عباسی کو یہاں سے ٹرانسفر کر دیا جائے یا پھر ہم سب کا تبادلہ کر دیا جائے۔ لہٰذا محکمۂ تعلیم نے اعجاز عباسی اور ثاقب ٹیچر کو معطل کر دیا ہے حالانکہ مدرس ثاقب مکمل طور پر بے قصور ہیں کیونکہ وہ تو ہیڈ ماسٹر کی نمائندگی کرنے کے لیے گئے تھے اور جو سکول کے حق میں بہتر لگا اُس سے اتفاق کیا۔
ڈپٹی کمشنر ضلع مری نے اپنےجوابی مراسلہ نمبر (اے ڈی سی آر/ 245/ 8 ستمبر 2023ء) بنام ڈپٹی سیکرٹری کالونیز-1، بورڈ آف ریوینیو، بسلسلہ قیام اضافی عدالتی محکمہ جات میں بورڈ آف ریوینیو کی چِٹھی نمبر “(V11)11سی ایس/1587/ 2023-409” مورخہ 28 اگست 2023ء کے نتیجے میں مذید کارروائی کے لئے اپنی مفصّل رپورٹ پیش کی ہے۔
راجہ شاہد نواز پٹواری گھوڑا گلی کے مطابق کھیوٹ نمبر 1 ، خسرہ 392 ، کھتونی 2/2 ملکیتی پنجاب حکومت میں سے 2 کنال 15 مرلے مقبوضہ کمیٹی و کنٹونمنٹ ، موضع مری ، سکنی بلاک ، بحق لاہور ہائی کورٹ ، جوڈیشل کمپلیکس ، مری منظور کرنے کے لئے رپورٹ پیش کی اور 2 ستمبر 2023ء کو ریکارڈ پیش ہونے کے بعد منظوری ہُوئی۔ اس ساری کارروائی میں ٹی ایم اے اور محکمہ تعلیم کے سربراہان کو باخبر رکھا گیا۔

دستار کے ہر پیچ کی تحقیق ہے لازم
ہر صاحبِ دستار معزز نہیں ہوتا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں