ضرب قلم : اسلم کھوکھر
وجہ تخلیق کائنات، فخر موجودات، امام الانبیاء، سرکار دو عالم، رحمت العالمین، سرور کونینؐ کا میلاد مبارک منانے کیلئے کوئی لمحہ، کوئی دن مختص نہیں ہے۔ ربیع الاول (بہار الولین) کا تو مقام ہی اور ہے، آقائے نامدار کی نبوت ؐکے بارے میں خالق کائنات نے خود فرمایا کہ میں نے احسان کیا ہے اس سے قبل جو کچھ بھی تخلیق کیا، یا تفویض کیا، یا نوازا، کسی لمحے بھی اللہ تبارک تعالیٰ نے احسان کا ذکر نہیں کیا لیکن جس ہستی کی وجہ سے کائنات ارض و سما تخلیق کیے ان کی آمد پر احسان کیا۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو آقائے نامدار، تاجدار دو جہاں ؐ سے سچی اور پکی محبت کرتے ہیں اور کوئی لمحہ آپ ؐ کی یاد اور محبت سے غافل نہیں ہوتے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باہوجو کہ حق باہوؒ کے نام سے بھی مشہور ہوئے کہ ایک مصرعے میں بات ختم کردی کہ”جو دم غافل سو دم کافر“ اللہ اور اس کے رسولؐ کی یاد ہی دراصل کلمہ طبیہ پہلی اور آخری یادداشت ہے۔
خواجہ محبوب الٰہی نسیم صاحب اسم با مسمیٰ ہیں کہ ہر سال مری میں آکر ایک کونے میں جلوہ افروز ہوتے ہیں اور پھر عشاق خواجہ معصوم دنیا بھر سے کچے دھاگے سے بندے چلے آتے ہیں۔ کشمیر پوائنٹ کے مقام پر بہت عرصہ پہلے خواجہ معصوم صاحب نے قدم رکھا اور اس گوشے کو روحانیت بلکہ اللہ کے ذکر کی وجدانیت سے منور کیا۔ان کے عقیدت مند راجہ اکرم نے وہ جگہ مسجد کیلئے مختص کر دی۔ خواجہ محبوب الٰہی چنیوٹ میں دو دریاؤں کے سنگھم پر آرام فرما ان کے والد خواجہ محمد علی (بلال موہروی) آرام فرما ہیں، خواجہ نواب الدین جو کہ خواجہ معصوم صاحب کے والد گرامی ہیں اور کھاریاں کے قریب ان کا دربار موہری شریف ہے۔
خواجہ محبوب الٰہی اور خواجہ معصوم ؒدونوں پیر بھائی ہیں مگر قربِ خواجگان کی سعادت رکھنے والے محسوس کر ہیں کہ خواجہ محبوب الٰہی، خواجہ معصومؒ صاحب کو بھی مرشدکا ہی درجہ دیتے ہیں خواجہ معصوم صاحب نے اپنی زندگی میں کشمیر پوائنٹ معصومیہ مسجد میں جشن نزول قرآن و میلاد مصطفےٰ ؐ شروع کیا اور ان کی رحلت کے بعد اس پودے کی آبیاری خواجہ محبوب الٰہی صاحب کر رہے ہیں۔ مری کے گرمائی سیزن میں جب ہر قسم اور ہر طرح کے سیاح مری کا رخ کرتے ہیں۔ لیکن جشن نزول قرآن اور میلاد مصطفےٰ ؐ کیلئے خواجگان کے دیوانے شمع رسالت کے پروانے بن کر پورے ملک کیا دنیا کے کئی ممالک سے ان کے چاہنے والے امڈ آتے ہیں دو روزہ یہ روحانی اجتماع اپنی مثال آپ ہوتا ہے۔ اس پروگرام کی سب سے زیادہ خوبصورتی یہ ہے کہ اس تقریب میں پاکستان کے علاوہ غیر ملکی مہمان اور سفراء بھی آتے ہیں۔ہر درگاہ کے گدی نشین اس پروگرام میں شرکت کرتے ہیں سر ہند شریف (ہندوستان) سے حضرت مجدد الف ثانیؒ کے گدی نشین محترم ایوب سر ہندی صاحب ہر سال تشریف لاتے ہیں۔
اس دفعہ تو متحدہ عرب امارات کے سفیر کو خواجہ محبوب الٰہی نے بیعت بھی کیا اور انہوں نے عربی، انگریزی، اردو اور پنجابی میں ملے جلے الفاظ میں خطاب کیا۔ پیر سید حسنین فاروق شاہ گدی نشین چورہ شریف کے بغیر تو تقریب کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ دو روزہ یہ روحانی اجتماع جس میں تلاوت کلام پاک، نعت رسول مقبول ؐ سیرت النبیؐ مقررین کے خطابات سے دل جو کہ ایک قطرہ خون کے کو دریا اور دریا کو سمندر کی وسعت عطا کرتے ہیں۔ اس قدر نقطہ آفرینی دل و دماغ کے سارے طبق روشن کر دینے والے مقررین جذبہ عشق رسولؐ میں ڈوب کر سراغ زندگی دے جاتے ہیں۔ تقریب کے آخری روز عصر کی نماز کے بعد خواجہ صاحب کی قیادت میں شرکا پیدل اللہ ہو کا ورد کرتے ہوئے جی پی او چوک پہنچتے ہیں۔ سر تا پا سفید ٹوپیوں اور سفید اجلے لباس میں ملبوس عشق و سر مستی میں ڈوب کر اللہ ہو کا ذکر بلند کرتے ہوئے جب یہ قافلہ جی پی او چوک کی طرف روا دوا ہوتا ہے تو یہ منظر دیکھ کر فضا بھی مسحور ہو جاتی ہے اور ہر سال آسمان بھی یہ منظر دیکھ کر ابر باراں پھوار کی صورت میں پیش کر تا ہے۔
اختتامی دعا میں عالم اسلام کی سربلندی سے لیکر اس بستی کیلئے دعا کے ساتھ ہی یہ روح پرور یاد گار روحانی اجتماع اختتام پذیر ہوتا ہے۔ خواجہ محبوب الٰہی صاحب نے چنیوٹ کے قریب وادی عزیز شریف میں اپنے والد گرامی صوفی محمد علی ؒ (بلال موہروی)کے دربار کے احاطہ میں ایک قابل تقلید کارنامہ سر انجام دیا ہے کہ وہاں پر ایک ایسی یونیورسٹی قائم کی ہے اور اس یونیورسٹی میں دینی، دنیاوی، روحانی، سائنسی اور تحقیقی علوم وفنون سے طلباء کو آراستہ وپیراستہ کیا جا ریا ہے اور اس میں مستحق طلبا کو مفت داخلہ رہائش یونیفارم سے لیکر کتب تک فری مہیا کی جا رہی ہیں یہ اپنی نوعیت کی منفرد درسگاہ ہے جس کے طلباء تعلیمی بورڈز میں بھی نمایا پوزیشنیں لے رہے ہیں۔ یہی سلسلہ اگر ہر خانقاہ پر شروع کیا جائے تو امت مسلم جس زبوں حالی کا شکار ہے وہاں سے نکل سکتی ہے مسلم سائنسدانوں نے قرآن کے علم سے وہ میراث پائی کہ آج بھی یورپ ترقی کی جس معراج پر کھڑاہے اس نے مسلم سائنسدانوں کے تجربات اور علم سے فائدہ اٹھا نے کے علاوہ آقا نبی ؐ کی کچھ تعلیمات اور خلفاء راشدین کے قوانین سے رہنمائی لے کر یہاں تک پہنچے ہیں جس پر حضرت اقبال ؒ نے فرمایا کہ
کتابیں اپنے آباء کی وہ علم کے موتے
جو دیکھیں انہیں یورپ میں تو دل ہوتا ہے سی پارہ
کھوئی ہوئی میراث کو پانے کیلئے خواجہ صاحب کے نقش قدم پر چلیں تو ساری تاریکیاں نور و سرورمیں بدل جائیں گی۔