سکرین شاٹ/شبیر بھٹی
پی ٹی آئی کی سیاسی گاڑی یوٹرن لے کر آخر کار مولانا فضل الرحمٰن کے سیاسی فیول پمپ پر جا رکی۔ (ایک خبر)
ایک بات تو ہمیں من وعن تسلیم کرنا پڑے گی کہ مولانا کا سیاسی فیول حکومتی مشینری کو چلانے کے لیے ہر دور میں کارگر رہا ہے۔ یہ واحدکثیر المقاصد فیول ہے جو ہر سیاسی انجن کے ساتھ مطابقت اختیار کر لیتا ہے۔مولانا کے فیوض وبرکات سے سیاسی لوگ ہمیشہ سے مستفید ہوتے آئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاسی گاڑی مولانا صاحب کے پمپ سے فیول ڈلوانے میں کامیاب ہوتی ہے یا ناکام لوٹتی ہے۔ یہ بات ہم مولانا صاحب کے سیاسی ظرف پہ چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ کیا فتوی ٰ صادر فرماتے ہیں (بیچ اس مسئلہ کے)۔
یوں تو سیاستدان بڑے ظرف کے مالک لوگ ہوتے ہیں۔ سیاست کے میدان میں چاہے یہ ایک دوسرے کو ننگا ہی کیوں نہ کردیں اقتدار کی دیگ پہ جمع ہونے میں دیر نہیں لگاتے۔ پھر مل بیٹھ اور بانٹ کر کھانے میں کوئی عار بھی محسوس نہیں کرتے۔ اس وقت جائز وناجائز، حلال وحرام کے فتوے، قادیانی، یہودی اور بھارتی ایجنٹ ہونے کے سب الزامات ایک طرف رکھ دئیے جاتے ہیں۔ سیاسی لغت میں عزت،بے عزتی اور توہین کوئی خاص معنی نہیں رکھتی۔ بس سیاستدان کو “ثابت قدم ” ہونا چاہیے۔ خان صاحب نے مولانا کو انہی کے ڈیز ل سے سیاسی جلسوں میں اس تسلسل سے دھویا ہے کہ انہیں اپنے حلقے کے عوام بھی پہچان نہ پائے۔ شاید اسی بناء پہ وہ اپنے آبائی حلقے کی نشست بھی گنوا بیٹھے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر ہمیں دوسروں کی کردار کشی میں اس حد تک آگے نہیں جانا چاہیے کہ ایک دوسرے کو چہرہ دکھانے کے قابل بھی نہ رہیں۔ یہ بات عام معاشرتی اخلاقیات پہ تو صادق آتی ہے مگرہمارے ہاں کی سیاسی اخلاقیات کو اس سے استثنیٰ حاصل ہے۔ سیاست کے میدان میں ایک سیاستدان کو بیک وقت کئی چہرے رکھنا پڑتے ہیں جو اسے مختلف مقامات اور مواقع پر بہروپ بدلنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ رہی بات پی ٹی آئی کی سیاسی گاڑ ی کی تو ان دنوں سیاست کی شاہراہ پہ انہوں نے اپنے لیے ضرورت سے زائد رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔ اس ساری کہانی سے دو طرح کے خدشات جنم لیتے ہیں۔ اول یہ کہ پی ٹی آئی کی سیاسی گاڑی باقی ماندہ سواریوں سمیت کسی اندھی کھائی میں بھی گر سکتی ہے اور دوسرا یہ کہ کہیں مولانا کو اپنے سیاسی فیول پمپ سے ہاتھ ہی نہ دھونا پڑ جائے۔آمدو رفت کی شاہراؤں پر یوٹرن ایک خاص حد اور مناسب فاصلے کے بعد آتا ہے۔ ہر گام یہ سہولت میسر نہیں ہوتی مگر سیاست کی شاہراہ پر کسی بھی جگہ سے، کسی بھی وقت اور کسی بھی لمحے یوٹرن کے سہولت سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ موضوع کی مناسبت سے میں اپنا ہی ایک شعر قارئین کی نذر کرتا ہوں۔
یوٹرن نہیں لیا، یوں ٹرن لیاہے
خود حیراں ہو ں کیوں ٹرن لیا ہے