امجد بٹ (مری)
تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ امریکی اور اسرائیلی سامراج نے پہلے کویت کی امداد کے بہانے اور دوبارہ ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش میں عراق کی سر زمین اور اسکی عوام کو تاراج کیا۔
ہم نے یہ بھی پڑھا تھا کہ امریکہ نے ایران میں اپنے ہمنوا شاہ ایران کی حکومت کو بحال کروانے کے لیے انقلابی راہنما ڈا کٹر مصدق کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا تھا ، شمالی کو ریا کے خلاف جنوبی کوریا کو لڑانے کی امریکی سازش ہم نہیں بھول سکتے، پاکستانی شہر لاہور میں موجود قذافی سٹیڈ یم کا نام بدل کر رکھنے میں امریکی دلچسپی ابھی تک ہمارے ذہنو ں پہ ثبت ہے اور لیبیا کے حجاج کرام پر فریضہ حج کے لیے لگائی گئی امریکی پابندی کا شرمناک واقعہ اسلامی تاریخ کی بے حسی کا واضح ثبوت ہے۔ لیبیا والوں پر امریکی جہاز تباہ کروانے، امریکہ میں ہی دہشت گردی کے ذریعے نو منزلہ عمارت گرانے اور 80 اسّی بندوں کو ہلاک کروانے کی امریکی سازش بے نقاب ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا ، پہلے روس پھر مسلمانوں کے خلاف افغانستا ن اور پاکستان میں لڑی جانے والی امریکی بقاء کی جنگ آ ج بھی جاری ہے مسلمانوں کو بحیثیت دہشت گرد اور بنیاد پر ست متعارف کروانے کی مغربی مکّاری کسی سے پوشیدہ نہیں، وزیرستان اور سوات میں لگائی جانے والی آگ اسلام آباد، کراچی، پشاور، لاہور، اور کوئٹہ والوں کو بھی جھُلساتی رہی ہے۔
11ستمبر۔۔۔ایک نہیں چار جہاز اغوا۔۔۔۔ ورلڈ ٹر یڈ سنٹر۔۔۔۔ پینٹا گون۔۔۔۔18منٹ کا وقفہ۔۔ اب دنیا اسے کسی اور رُخ سے سوچ اور دیکھ رہی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے اور ٹھوس ثبوت کے ساتھ بتاتی ہے کہ پینٹا گون نے سابق امریکی صدر جان ایف کینڈی کے دور میں خود اپنی سر زمین پر انتہائی خون ریزی کا منصوبہ بنایا۔ امریکن سی آئی اے ہولناک دہشت گردی کرنے کے بعد کیوبا پر الزام لگا کر اسے سبق سکھانا چاہتی تھی۔ اس منصو بہ کی فائل جان ایف کینڈی کے سامنے پیش کی گئی تا کہ وہ اس پر دستخط کر دیں تو امریکی صدر اس تصور سے کانپ اُٹھے۔۔۔ بعد میں ان کا کیا حشر ہوا؟ تاریخ اس کی کچھ اور وجوہات بھی بتاتی ہے۔۔ 11ستمبر کو جو کچھ بھی ہوا۔۔۔۔کیا وجہ تھی کہ واضح او ر مستند شواہد کو ٹھکرا کر پوری دنیا کو تباہ کر نے کا سازو سامان ساتھ لے کر امریکہ وسطی ایشیا میں دس سال سے زیادہ عر صہ ٹھہرنے کا اعلان کرتا ہے ، امریکہ کبھی افغانستان پر ایٹمی حملے کے پروگرام کا اعلان کرتا ہے اور کبھی جراثیمی ہتھیاروں کے استعمال کا، اہم بات یہ ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو آفر بھی کی تھی کہ اس کے کمانڈوز کہوٹہ اور دیگر حساس مقامات کی حفاظت کے لیے بلا معاوضہ خدمات سرانجام دے سکتے ہیں دوسری طرف ملک میں امریکن مخالف ریلیوں اور بھر پور احتجاج کو دیکھتے ہوئے امریکہ نے اپنے ”تھِنک ٹینکس“ سے مستقبل کی بابت مشورہ لیا تھا اور پر وگرام یہ تھا کہ اگر پاکستان میں خطرناک حالات خانہ جنگی کی سی کیفیت کی طرف جاتے ہیں تو لامحالہ پرویز مشرف اور زرداری کے بعد نواز شریف کو برطرف ہونا پڑ یگا، ان حالات میں امریکہ کو خطر ہ تھا کہ ایٹمی پر وگرام محفو ظ ہاتھو ں سے نکل کر اس کے اپنے پیدا کردہ انتہا پسندوں کے ہاتھ میں چلا جائے گا۔ دوسری طرف امریکہ کو پاکستان کی افغان پالیسی تبدیل کرنے کا ابھی تک بھر پور یقین نہیں آ رہا اور وہ باربار آئی ایس آئی اور دیگر حساس اداروں کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہی امریکہ جس کا صدر ماضی بعید میں مسلسل پانچ دن بھارت کے دورے کے بعد صرف ساڑھے چار گھنٹے کے لیے اسلام آباد اُتر کر قوم کو براہ راست”دھمکیاں“ دیکر واپس روانہ ہو جاتا ہے جبکہ گز شتہ دہائی میں وہی ملک ببانگِ دہل کہہ رہا تھا کہ امریکہ کو پاکستان کی دوستی پر فخر ہے لیکن اس جملہ میں ایک اور جملہ کا اضافہ بھی شامل ہے کہ سابق امریکی وزیرِ خارجہ کولن پاؤل نے کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف مہم کو کشمیر تک پھیلایا جا سکتا ہے۔ یہ سب کچھ کیا ہے؟ یہ اشارے کیا بتا رہے ہیں؟ امریکہ اپنے عزائم کے لیے کہاں تک جا سکتا ہے؟امریکہ کا اصل ہدف کیا ہے؟ اسرائیل اورا مریکہ میں مسلمانوں کو نسیت و نابود کرنے کے لیے کن کن معاہدوں پر دستخط ہو چکے ہیں زیر نظر سطور اسی تجزئیے کی عکاس ہیں۔
یہ حقیقت دلائل کی محتاج نہیں کہ یہودی اور امریکی سامراج ساری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں اور یہ بات بھی واضح ہے کہ ان کی سازشیں عجیب و غریب اور بہت گہری ہوتی ہیں ہم لوگ یہودیوں کو موسی ؑ کی اُمت ، اہلِ کتاب اور توریت کی حامل قوم تصوّر کرتے ہیں یہ ہماری سادگی اور حالات سے عدم واقفیت ہے ۔ یہودی ایک سامراجی اور سازشی ذھنیت ہے جو کہیں اسر ائیل اور کہیں ریاست ہائے متحد ہ امریکہ اور اب یو این او کی بہروپیائی شکلوں میں کام کر رہی ہے۔ جس طرح کسی نے محمود غزنوی کو یہ بات سمجھائی تھی کہ جب تک سو منات کے مندروں کو گرایا نہیں جاتا اس وقت تک ہندوستان فتح کرنا ناممکن ہے یا جس طر ح شیطا ن نے ابرھہ کے دماغ میں یہ کیڑا پیدا کیا تھا کہ جب تک عربوں (اہل مکہ) کے معبد (خانہ کعبہ) کو منہدم نہیں کر دیا جاتا اس وقت تک جزیرۃ العرب پر اس کی با لادستی قائم نہیں ہو سکتی با لکل اسی طرح آج کی سامراجی طاقت امریکہ کو اس کے یہودی مشیر وں نے یہ یقین دلا رکھا ہے کہ معاذ اللّٰہ جب تک مسلمانوں کے مرکز کو تباہ اور ان کو مقدس کتاب سے منحرف نہیں کیا جاتا اس وقت تک ساری دنیا پر اقتدار قائم نہیں کیا جا سکتا چنانچہ امریکہ اسی کوشش میں ہے کہ مسلمانوں کے مرکزی او ر مقدس مقامات کو مٹا دیا جائے۔ امریکہ نے اسلام کے خلاف کتابیں لکھوائیں تو اسے اندازہ ہوا کہ مسلمان ساری دنیامیں سراپا احتجاج بن گئے ہیں،سلمان رشدی کی مخالفت کہاں نہیں کی گئی؟ حجازِ مقدس میں متعدد سازشیں ہوئیں اور سازش کے بے نقاب ہو نے پر ساری دنیا کے مسلمانوں نے احتجاج کیا ، بابری مسجد شہید کروا کر اور درگاہ”حضرت بل“ پر حملہ کروا کے اس کا اندازہ کیا گیا کہ مسلمانوں میں کہاں کہاں کس حد تک جذبہ ، جوش اور دین اسلام سے عقیدت ہے؟ افغانستان اورعراق میں عالمی امن کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر جس طرح مسلمانوں کو شہید کیا جاتا رہا ہے پوری دنیا ان صیہونی سازشوں اور مظالم کی گواہ ہے ان کا اگلا ہد ف ایران ہے ۔ جس طرح جامعہ حفصہ، جنوبی وزیرستان اور افغانستان میں داخل ہونے کے لیے دہشت گردی کے خاتمے کا سہارا لیا گیا اور عراق میں ایٹمی ہتھیاروں کی عدم دستیابی کے باوجود وہاں مستقل ڈیرے ڈالے گئے اسی طرح ایٹمی تنصیبات کے خاتمے کے لیے بہانہ بنا کر ایران میں داخلے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ مشرقِ وسطی اور خصوصاً ًاسلامی ممالک کی جنگی تاریخ شاہد ہے کہ مسلمان ممالک کو آپس میں ہی لڑا کر ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا گیا اوراُن کی سیاسی،سماجی ، دینی اور عسکری قوتوں کو خاک میں ملا دیا گیا۔کشمیر میں امن قائم کرنے کے نام پر صرف خود مختار وادی میں اپنا اڈہ بنانا (یعنی چین کے صنعتی انقلاب کے راستے بند کر کے برّعظیم کو اُس کی منڈی بننے سے روکنا) امریکی پروگرام کا حصہ ہے پاکستان کو جوہری طاقت بننے کی سزا دینا بھی امریکی ایجنڈے میں شامل ہے لیکن اُس کا اصل ہدف یا نشانہ بیت اللّٰہ شریف ہے۔
ٍ آنے والے سالوں میں امریکہ یہودیوں کی تیار کی گئی سازش کے مطابق مسلمانوں کے مقدس اور مرکزی مقامات پر ایک دوسرے انداز میں حملہ کرے گا اور یہ سطور اسی متوقع حملہ سے باخبر کرنے کے لیے لکھی جا رہی ہیں ۔ نئی سازش کی صورت یہ ہے کہ امریکہ اپنے کسی دوست اسلامی مُلک کے حکمران سے کسی دوسرے اسلامی ملک کے اختلافات بڑھا کر ان دونوں ملکوں میں جنگ کے حالت پیدا کر دے گا (اور امریکہ کا جو مسلمان حلیف ملک اس سازش میں تعاون نہیں کرے گا اس ملک میں مصر کی طرح خانہ جنگی کروا دی جائے گی جس کا دائرہ کار قریبی ملکوں تک پھیلا دیا جائے گا تا کہ کوئی مسلمان ملک مدد کو نہ آ سکے یہاں تک کہ باغی ملک کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ عرب ممالک میں اٹھنے والی حالیہ یورش اس کی واضح مثال ہے پھر جزیرۃ العرب کے کسی حکمران کو اپنے ساتھ ملا کرایک فریق کی حمایت میں دوسرے مسلمان ملک کے خلاف شریک جنگ کر کے اس پر حملہ کروائے گا حملہ تو امریکی کمانڈروں کی نگرانی میں ہوگا لیکن ظاہر یہی کیا جائے گا کہ جزیرۃ العرب کے حکمرانوں کی فوجیں لڑ رہی ہیں جس طرح عراق کے خلاف کویت کو بہانہ بنا کر سعودی حکمرانوں کی طرف سے عراق پر حملہ کیا گیا تھا۔ ساری دنیا کے مسلم کویتی شیخ کی غلط حکمتِ عملی کے خلاف عراق کے حامی تھے لیکن جنگ میں سعودی عرب کو شریک کر کے ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ گویا عراق اور سعودی عرب میں لڑائی ہو رہی ہے اورظاہر ہے کہ ان دونوں ملکوں میں مسلمان ہیں اور جب جنگ دو مسلمان ملکوں میں ہو گی تو دنیا بھر کے مسلمان دو حصوں میں بٹ جائیں گے عراق نے پوری پوری کوشش کی کہ دُنیائے اسلام کو یقین دلایا جائے کہ اصل جنگ عراق اور اسرائیل کے درمیان ہے امریکہ اسرا ئیل کا سر پرست ہونے کے نا طے فر یقِ جنگ بن رہا ہے اور کو یت عراق کی سرحدوں کے با لکل قریب امریکہ کو اڈے دے چکا ہے۔ کویت کا تیل، کویت کی سر زمین اور کویت کا سمندر عراق کے دشمنوں کے حوالے کیا جا چکا تھا اور ہے امریکہ اس علاقے میں زرِسیّال (تیل) کے علاوہ عراق کو قابو رکھنا اور ایران سے انتقام لینا چاہتا تھا عراق نے کویت کو روکا۔ کویت نے امریکہ سے شکایت کی، امریکہ نے سعودی عرب سے کہا کہ کویت کا بہانہ بنا کر تم اپنی سر زمین (جو اصلی میں عالم اسلام کی مشترک سر زمین ہے) میری فوجوں کے حوالے کر دو اور یوں عراق کے خلاف بھر پور حملوں کے لیے راستہ ہموار کیاگیا یہاں تک کہ عراق پر امریکی حملوں کی صورت میں مسلمان عراق کی حمایت میں متفق نہ ہو سکے۔ آنے والے سالوں میں با لکل اسی طرح امریکی سازش کے تحت دو مسلمان ملکو ں میں جنگ ہو گی تو امریکہ اس جنگ میں ایک ملک کا ساتھ دے گا اور سعودی عرب کو اپنے ساتھ ملا کراس کی طرف سے حملہ کرائے گا ایسی صورت میں جس مسلمان ملک پر حملہ ہو گا وہ سعودی عرب کے خلاف جوابی کاروائی پر مجبور ہو جائے گا اور سعودی عرب کے حکمرانوں کے خلاف ہو گا امریکی اپنے خفیہ اڈوں سے حجاز میں مسلمانو ں کے مقدس مراکز پر میزائیل برسانا شروع کر دے گا اور ساری دنیا کے خبر رساں اداروں BBC,FOX ,CNN GEO,ZEE NEWS,SKY NEWS,ALJAZERA وغیرہ کی طرف سے اعلان کروادیا جائے گا کہ فلاں مسلمان ملک نے حجاز کے مقد س مراکز پر حملہ کردیا ہے یوں یہودی اور امریکی مقاصد اور مفادات کے عین مطابق مسلمانوں کے مرکز کو نا قابلِ تلافی نقصان پہنچانے کیساتھ مسلمانوں میں پھوٹ ڈال دی جائے گی ۔ ساری دنیا کے مسلمان حتٰی کہ اس ملک کے باشندے جس کا نام لے کہ حجاز پر حملہ کروایا جائے گا امریکہ کو نجات دھندہ اور اسلام کا محا فظ خیال کر نا شروع کر دیں گے۔
ماضی بعید میں ایرانی افواج سوڈان کی فوجوں سے مل کر جنگی مشقیں کرتی رہی ہیں مصر جو امریکہ کی گرفت میں ہے اس نے اعلان کیا تھا کہ ایرانی افواج کے سوڈان کی طرف آنے سے اس کی سلامتی کو خطر ہ ہے۔ فرض کریں (خدا نخواستہ) سو ڈان اور ایران کے خلاف مصر فوجی کارروائی کرتا ہے تو امریکہ مصر کا ساتھ دے گا ایران جو ہمسایہ ملک ہے اور جسے امریکہ ہر قیمت پر تباہ کرنا چا ہتا ہے،مصری افواج کی حکمت عملی سے اسے جنگ میں شریک ہونے پر مجبور کر دیا جائیگا اورجونہی ایران حرکت کرے گا پہلے سے پروگرام کے تحت سعودی عرب مصر کی حمایت کا اعلان کردے گا ایران مصر کے خلاف ہے اور سعودی عرب مصر کا دوست اورحلیف ہے اخبارات، ریڈیو اور ٹی وی و موبائیل کے ذریعے ساری دنیا کو یقین دلانے کی کوشش کی جائے گی کہ ایران سعودی عرب پر اور سعودی عرب ایران پر میزائل پھینک رہے ہیں حقیقت میں یہ میزائل امریکہ ہی کہ خفیہ مرکز سے دونوں ملکوں پر پھینکے جا رہے ہوں گے اور جب دنیا یقین کر لے گی کہ ایران و سعودی عرب میں میزائلوں کی لڑائی ہو رہی ہے تو امریکہ اسی خفیہ مرکز سے مسلمانوں کے مقدس مقامات پر میزائیل برسا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کر ے گا۔ ساری دنیا کے مسلمان یہی سمجھیں گے کہ یہ میزائل ایران نے بر سائے ہیں اور وہ ایران کی شدید مخالفت پر اُتر آئیں گے حتیٰ کہ اُسے صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائیگا۔ ایران و سوڈان کو شامل جنگ ایک وقت میں بھی کیا جاسکتا ہے اور الگ الگ بھی بہرحال یہ ممالک امریکی فوجوں کے مراکز اور یہاں کا تیل امریکہ اور اسرائیل کے لیے مال غنیمت ہو گا۔اب سوچنا یہ ہے کہ کیا جنوبی وزیرستان کو مصر کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے کے لیے خالی کر وایا جا رہا ہے؟کیا القاعدہ،اُسامہ بِن لادن،طالبان اور اب ملالہ کو ہیرو بنانے کے لیے مہرے کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا ہے؟ کیا پاکستانی میڈیا میں ”US-AID“پروگرام کے ذریعے عوام کو بیوقوف نہیں بنایا جا رہا؟کیا امریکی عوام وظائف اور سہولتوں کے بدلے اسرائیل نواز امریکی صدر کو منتخب کر کے تیسری دنیا کے عوام خصوصاََ مسلمانوں کے قتلِ عام کا باعث نہیں بنتے؟اور کیا عرب ممالک میں مخصوص مقاصد کی تکمیل کیلئے حالات کو خراب نہیں کیا جارہا ہے؟
موجودہ دہائی میں سعودی عرب کے عوام کو اسلامی شعار سے دُور کرنے کا ہر حربہ استعمال کیا گیا ہے اور جمہوریت و ترقی کے نام پر اسلامی اقدار کو پامال کر کے یہاں مغربی اقدار کو مضبوط کیا جا رہا ہے تا کہ خانہ کعبہ پر خود ساختہ حملے کی صورت میں امر یکہ کو نجات دہندہ اور محافظ ثابت کیا جا سکے اور وہاں دیرپا قیام کا جواز پیدا ہو سکے۔
ساری دُنیا جانتی ہے کہ فلسطین عسکری اور تنظیمی لحاظ سے اتنا مضبُوط نہیں کہ اسرائیل سے جنگ کر سکے تو آخر کیا وجہ ہے کہ اچانک فلسطین اتنی شدّومد اور بھاری بھر کم اسلحےکے ساتھ اپنے سے کئی گُنا بڑی طاقت کو منظّم تیاری کے بغیر للکار بیٹھا ہے۔ یہ اسلحہ کن ذرائع سے فراہم کیا گیا ہے ؟ کہیں فلسطین کو بہانہ بنا کر اسرائیل کا نشانہ ایران تو نہیں تھا ؟ کیا ایران نے عسکری دانشمندی سے فلسطینی جنگ میں عملی طور پر نہ کُود کرخُود کو امریکی اور روسی اسلحے کی منڈی بننے سے بچا لیا ہے ؟
پاکِستانی حکومتوں کو افغانستان اور کشمیر کی جنگوں میں مذہب اور قومیت کے نام پر کُود کر دولت کمانے ، اپنے بچے مروانے اور مُلکی امن تباہ کروانے کا خاصا تجربہ ہے ۔ ہم اپنے مُلک کو ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود محفوظ مُلک تو بنا نہیں سکے ۔ ہمیں موجودہ حالات میں بڑی طاقتوں کے خلاف اپنی صلاحیتیں ، سرمایہ اور وقت صرف کرنے کے بجائے پہلے خُود اخلاقی ، عِلمی ، سائنسی ، دینی ، لِسانی اور معاشی طور پر مُستحکم ہونے کی ضرورت ہے۔