میڈیا زون ٹی وی

یاد میں تیری۔۔

ضرب قلم /اسلم کھوکھر
میرے لئے اس سے بڑی سعادت اور خوش نصیبی اور کیا تھی کہ میں مثالی محفل میں سب سے پہلے پہنچا اور ایسے خوش الحان قاری کہ جن کے سینے میں کلام الٰہی کا خزینہ دفن تھا اور ان کی قرآت سننے کیلئے لوگ کب سے منتظر بیٹھے تھے۔

قاری اکسیر عباسی بھی جب سٹیج کی طرف بڑھے تو میں وہ لمحات بھول نہیں سکتا کہ میں نے ان آنکھوں کو دیکھنے کیلئے کب سے بیقرار بیٹھا تھا کہ جن آنکھوں نے روضہ رسولﷺ کی جالیوں کے بوسے لیے اور تنہائی میں نہ جانے کتنے خوش نصیب آنسو کائنات کی عظیم ترین ہستی کی زیارت کیلئے ٹیکے ہونگے۔ روحانی شخصیات کے استقبال کے بعد صفدر ہال میں بیٹھے سب چہرے کھل اٹھے اور نعت خواں سید اعجاز حسین شاہ کاظمی جو کہ آزاد کشمیر سے تشریف لائے تھے، کی خوش الحانی اپنے عروج کو پہنچی تو جہاں جہاں تک آواز جارہی تھی راہگیروں سے لیکر کام کاج میں مصروف لوگ اس محفل میں کچے دھاگے سے بندھے چلے آئے۔ صفدر ہال کا وسیع و عریض ہال پہلی بار اپنی قلت کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔ بادِباراں کے شدید طوفان کے باوجود لوگ دیواروں کے ساتھ دیوانوں کی طرح لگ کر تلاوت کلام پاک اور نعتِ رسول مقبول کی رقت سے سراپا آنسو بنے تھے۔ تا حدِ نگاہ لوگ ہی لوگ تھے کوئی آنکھ اور کوئی دل ایسا نہ تھا کہ جو کلام پاک کی نورانیت اور وجدانیت سے بھیگ نہ گیا ہو اس شہر بے مثال کی یہ محفل بھی با کمال اور لازوال تھی کہ جس کا ہر سال لوگ انتظار کرتے ہیں میں برادر مکرم سردار ساجد قریشی کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ اس کا شمار ایسے لوگوں میں ہوتا ہے کہ جو اپنے والدین کی یاد کو ہر لمحہ دل سے لگائے پھرتے ہیں ان کے والد مرحوم سردار صفدر قریشی کو ان سے بچھڑے 43 سال بیت گئے اس وقت ساجد قریشی کی عمر بمشکل گیارہ سال تھی وقت ِرحلت انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کے والد کی تحریک پاکستان اور پھر تحریک آزادی کشمیر کیلئے کیا خدمات ہیں لیکن جوں جوں والد کی فرقت کے سالوں میں اضافہ ہوتا گیا ان کی آدھی صدی سے زیادہ جدوجہد آزادی کا تذکرہ ان کے رفقائے کار اور ہم عصر سیاسی و سماجی اکابرین سے تذکرہ اور تاریخ سن کر غم سے جھکی ہوئی کمر اور خمیدہ کمر کے ساتھ سر فخر سے بلند ہوتا گیا کہ وہ ایسے باپ کا فرزند ہے کہ جس نے جوانی اس ملک کے حصول کیلئے اور سرمایہ ملک و قوم کیلئے خرچ کیا۔ جوں جوں نعت خوانوں کے آقائے نامدار اور تاجدارِ دو عالم ؐکی محبت میں عقیدت کے پھول برسائے جا رہے تھے ہر کوئی اپنی اپنی بساط کے مطابق سمیٹ رہا تھا دل کرتا تھا کہ اس کیفیت سے آزاد نہ ہوں۔ راولپنڈی اور قرب و جوار سے آئے ہوئے نعت خوانوں نے آقائے نامدار کے حضور کو کلام بھی پیش کیا وہ سننے کے بعد دل سے دعا نکلتی تھی کہ اللہ تعالیٰ قیامت تک اپنے محبوب کی ثنا خوانی کی صفت سے مالا مال ہونے والے نعت خوانوں کو حسان بن ثابتؓ کی صف میں جگہ عطا فرمائے۔سید اعجازحسین شاہ کاظمی نے جب میری فرمائش پر مرحوم و مغفور ذوالفقار حسینی کی مشہورِ زمانہ نعت ’
؎ تو شاہ خوباں تو جانِ جاناں ہے چہرہ ام الکتاب تیرا
نہ بن سکی ہے نہ بن سکے گا مثال تیری جواب تیرا
یہ نعت سننے کی دیر تھی کہ ہر ایک کی آنکھ اشکبار ہو گئی ہر نعت خواں کی عقیدت کای ابتدا اور انتہامدینہ منورہ تھی بقول سید نصیر الدین نصیر گولڑویؒ کے عاشقانہ اور عارفانہ کلام سے یہ احساس نہیں ہوتا کہ ہم مری میں ہیں یا مدینے میں
؎ لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں دل کو مطلع انوار بنائے ہوئے ہیں
ہر ثنا خوان کی آواز سے یوسف میمن کی یاد تازہ ہو گئی سید اعجازحسین شاہ کاظمی نے کلام میاں محمد بخشؒ سنایا تو حاضرین کی فرمائش تھی کہ ایک نعت اور مگر ظہر کی نماز کے بعد شروع ہونے والی یہ تقریب مغرب کی اذان تک جاری رہی۔ قاری اکسیر عباسی نے مختصر خطاب کے دوران کلام حضرت سلطان باہوؒ پیش کرنے کے بعد اختتامی دعا کیلئے جب ہاتھ بلند کیے تو سب کے ہونٹ اور دل ایک ہو چکے تھے۔دو ہزار سے زاید حاضرین محفل کو پر تکلف کھانا پیش کیا گیا۔میرا دھیان ایسے سرمایہ داروں کی طرف چلا گیا جنوں نے ہر ناجائز ذرائع سے دولت کے پہار کھڑے کئے اپنی اولاد کی شادیوں کیلئے پاکستان کے علاوہ پوری دینا سے خریدو فروخت کی۔ دکھاوے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیالیکن بد قسمتی دیکھیے کہ اپنے والدین ایصالِ ثواب کیلئے کھانا تو درکنار پانی کا ایک گلاس تک نہ پلایامگر نتیجہ ذلت کے سوا کچھ نہ نکلا۔مگر آفرین ہے ساجد قریشی پر کہ جس نے اپنے والد محترم کے ایصالِ ثواب کیلئے کئی نو دولتیوں کے ولیموں سے ہزار گنا بہتر طریقوں سے طعام پیش کیا۔ دعا ہے ہم ساجد قریشی کی طرح اپنے والدین کی یاد منائیں اور ان کے ایصال ثواب کیلئے اللہ کے حضور اپنی اپنی بساط کے مطابق
یہ شمع روشن رکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں