سکرین شاٹ
تحریر شبیر بھٹی:
ماہ رمضان اپنی بابرکت رحمتوں کو سمیٹتے ہوئے گزر گیا۔ دوران رمضان زیست کی دوڑ دھوپ میں ہجوم آدم کو چیرتے ہوئے بازار سے گزر رہا تھا کہ اچانک یوٹیلٹی سٹور کے سامنے سیکڑوں کی تعداد میں کھڑی خواتین کی ایک لمبی قطار پر نظر پڑ گئی۔ خواتین کی اس قطار کو دیکھ کر مجھ سے زار و قطار رویا تو نہ گیا البتہ ابن انشاء (مرحوم) کا “ابتدائی حساب” یاد آ گیا۔ جس میں انہوں نے حساب کے ابتدائی قاعدوں پر فکاہیہ انداز سے روشنی ڈالی ہے۔ جو ادب کی دنیا میں ایک شاہکار تحریر کا مقام رکھتی ہے۔ کالم میں ابن انشاء کے “ابتدائی حساب” کا تحریری احاطہ ناممکن ہے۔ البتہ میں قارئین سے التماس کروں گا کہ اس کالم کو سمجھنے کے لیے کم از کم ایک دفعہ گوگل پر ابن انشاء کا “ابتدائی حساب” ضرور پڑھ لیں۔ ان کے اس “ابتدائی حساب” میں ایک قاعدہ جیومیٹری کا “خط” بھی تھا۔ میرا خیال ہے پہلے لغت کی رو خط کے خاندانی پس منظر پر روشنی ڈال لی جائے تو بہتر رہے گا۔ جیومیٹری کی زبان میں سیدھی ترچھی لکیر کو “خط” کہا جاتا ہے۔ اور خط کو “لکیر” بھی کہا جاتا ہے۔ لکیر کو انگریزی میں لائن کہا جاتا ہے۔ لائن کو قطار کے معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اردو میں اسی لائن کا مطلب لکیر، خط، قطار اور صف بھی ہے۔ گویا یہ الفاظ ادبی رشتوں کے ریشوں میں اس طرح بنے ہوئے ہیں کہ ان کو الگ الگ کرنا ادب ادھیڑنے کے مترادف ہے۔
آئیے اب اصل مدعے “خط” کی طرف واپس لوٹتے ہیں۔ جس کے لیے مجھے ایک “الجبرایائی” قسم کی تمہید باندھنا پڑی۔ اس میں قطعاً شک و شبے کی گنجائش نہیں ہے کہ ابن انشاء ایک عظیم لکھاری تھے۔ راقم ان کے قدموں کی خاک کے برابر بھی نہیں ہے۔ میں اس بات کو من و عن تسلیم کرتا ہوں کہ جس “خط” کو ضابطہ تحریر میں لانے کے لیے مجھے قلم اٹھانا پڑا۔ اس کے موجد وہی تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ایجادات میں جدت آتی رہتی ہے۔ نت نئی شاخیں وجود میں آتی رہتی ہیں۔ تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں۔ ناچیز نے اپنے اس ناتواں دماغ سے ابن انشاء کے “خط” کی مزید دو شاخیں دریافت کر لی ہیں۔ آئیے ذرا ان پر روشنی ڈالتے ہیں۔ پہلی شاخ ہے “خط چینی و آٹا”
ملک کی تاریخ میں پہلی بار یہ “خط” بھٹو (مرحوم ) دور میں متعارف کرایا گیا تھا۔ اس خط کے تحت عوام کو لمبی لمبی قطاروں میں کھڑا کر کے مٹھی بھر آٹا اور چٹکی بھر چینی ترسا ترسا کے دی جاتی تھی۔ یہ خط غریب عوام کو قناعت پسندی اور صبر و شکر کا درس دیتا تھا۔ یہ خط اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ روزی روٹی کا اختیار صاحب اقتدار کے پاس ہے اگر وہ نہ ہوئے تو آپ لوگ شاید فاقوں سے مر جائیں۔ خط چینی و آٹا عوامی بھوک کے زخموں پر مرہم کا کام کرتا چلا آیا ہے۔ اس خط کو سیاسی سطح پر اتنی پذیرائی حاصل ہوئی کہ اس کے بعد آنے والی جمہوری حکومتوں نے اپنے آباؤاجداد کے سیاسی نقش قدم پر چلتے ہوئے اسے سیاسی ثقافتی رسم کا حصہ بنا لیا۔ موجودہ حکومتوں نے اس خط کو مزید طول دے دیا ہے۔ اب یہ “خط چینی و آٹا وغیرہ” کہلاتا ہے۔ یہ خط سیدھا سادہ ہونے کے باوجود کسی گورکھ دھندہ سے کم نہیں ہے۔ جو عوام کی سمجھ سے کلی طور پر بالاتر ہے۔ سیاسی حکومتیں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس خط کو اس طرح استعمال میں لاتی ہیں کہ ایک طرف عوام کو سستا آٹا چینی وغیرہ وغیرہ فراہم کر کے دوسری طرف گیس، بجلی، پٹرول کی قیمتوں کی مد میں اپنی کسر پوری کر لیتی ہیں اور عوام کو پتہ تک نہیں چلتا۔ سیاسی قائدین اس خط کی ڈگر پر چلتے ہوئے آئندہ الیکشن کے لیے نہ صرف اپنی جیت کی راہ ہموار کرتے ہیں بلکہ یہی نیکیاں عوام کو باور کرا کے دوبارہ اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہو جاتی ہیں۔
آئیے اب دوسرے خط پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اس خط کو کہتے ہیں “خط پیٹرول و سی این جی۔” یہاں ایک انتہائی دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ اس خط کا موجد بھی سابقہ خط کے موجد کا داماد نکلا۔ یہ خط 2010ء کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں متعارف کرایا گیا۔ خط چینی و آٹا میں تو صرف غریب عوام متاثر ہوتی تھی مگر اس خط کی یہ خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس خط سے ایک موٹر سائیکل والے سے لے کر ویگو ڈالے تک کے لوگ “خط پیٹرول و سی این جی” سے مستفید ہوتے نظر آتے دیکھے گئے۔ اس “خط” کو دیکھنے کے بعد مجھے علامہ اقبال کی دوراندیشی یاد آ گئی۔ علامہ اقبال نے نہ صرف علیحدہ وطن کا خواب دیکھا تھا بلکہ کنایوں میں وہ وطن کے حالات کی پیش گوئی آج سے تقریباً پچاسی سال قبل اپنے اس شعر میں کر گئے تھے۔ جس میں “خط” کا ذکر بھی موجود ہے۔
ایک ہی “خط” صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ بندہ نواز
آج کل یہ خط کسی سیاسی قاعدے کے زیراستعمال نہیں ہے مگر اس خط کے وجود کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ یہ کسی بھی وقت متحرک ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے فلکیات کا کہنا ہے کہ زمین پر دیوار چین کے بعد واحد “خط پیٹرول و سی این جی” ہے جو خلا سے زمین پر دیکھا گیا تھا۔ اس خط سے عوام کے عزم و استقلال اور صبر کے پیمانے کو آزمایا گیا تھا۔ اور صاحب اختیار کا یہ تجربہ مکمل طور پر کامیاب رہا۔ مذہبی ماہرین کا کہنا ہے کہ قرب قیامت کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ دجال تمام زمینی وسائل پر قابو پا لے گا۔ اسی بناء پہ لوگ اسے خدا تسلیم کرنا شروع کر دیں گے۔ مجھے بھی رہ رہ کے یہ خیال آتا ہے کہ یہ دونوں خطوط شاید دجالی سلسلے کی کڑی ہی ثابت نہ ہوں۔ جہاں ملکی وسائل پر ایک خاص طبقہ قابض ہے۔ اور عوام کو اس دجالی فتنے سے نمبردآزما ہونے کے لیے ذہنی طور پر پہلے سے تیار کیا جا رہا ہے۔
ان دونوں خطوط کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ ان خطوط پر کھڑے ہونے کے بعد کسی کو بھٹو “زندہ” نظر آتا ہے۔ تو کسی کے میاں کے نعرے والہانہ انداز میں “وجنے” شروع ہو جاتے ہیں۔ میں بھی عوام کو ان “خطوط” پر ثابت قدمی سے کھڑے ہونے سلام پیش کرتا ہوں۔ نیز ان خطوط کا سیاسی وعدوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔









