میڈیا زون ٹی وی

سلیم شوالوی۔ ایک طرح دار شخصیت

ضرب قلم/اسلم کھوکھر

1996ء دسمبر کی یخ بستہ رات تھی آرٹس کونسل مری کے وسیع و عریض ہال اس قدر بھرا ہوا تھا کہ کرسی تو درکنار تل دھرنے کو جگہ نہ تھی اس قومی سطح کے مشاعرے کے میزبان ڈاکٹر حسن رضوی (مرحوم) کی سحر انگیز شخصیت اور جادوئی آواز سے ہال میں سناٹا چھا گیا مشاعرے کی صدارت جناب احمد ندیم قاسمی کو ان کے منصب کے مطابق سٹیج پر بلایا گیا سب حاضرین نے کھڑے اور تالیاں بجا کر ان کا خیر مقدم کیا۔ مہمان خصوصی کے طور پر جناب احمد فراز اور ظفر اقبال کو مدعو کیا گیا۔

مشاعرے کی اس کہکشاں میں امجد اسلام امجد، عطا ء الحق قاسمی، قریشی صاحب جو کہ اس وقت کمشنر راولپنڈی تھے جبکہ نوشی گیلانی کے شاعرانہ حسن کو دو بالا کرنے والے مرتضیٰ برلاس کو بھی بڑی آن بان کے ساتھ مدعو کیا گیاتھا جناب منیر نیازی سے لیکر خاطرغزنوی تک شعرا ء کا یہ گلدستہ جس میں ظرافت کے شہسواروں کے اسماء سنتے ہی ہال میں ایسا شور برپا ہوا کہ گویا باراتیوں کی طرح شانتیں ارب محوِ رقص و سرود ہو گئے۔ سید ضمیر جعفری، انور مسعود، سرفراز شاہد، ڈاکٹر انعام الحق جاوید، کراچی میں مرحوم ضیا الحق قاسمی شریک ہوئے، یہ حسن انتظام مری آرٹس کونسل کے اس وقت کے ڈائریکٹر شکیل احمد (مرحوم) اور برادرم ابرار عالم جو کہ اس وقت پروگرام آفیسر تھے نے علم و ادب کے لئے ایسا معرکۃ الآراء مشاعرہ کروایا کہ اس کی یادیں ابھی تک مسحور کر رہی ہیں۔ مجھے اچھی طرح یا د ہے کہ مرحوم امجد اسلام امجد کی بیٹی اور انور مسعود کے بیٹے عمار مسعود کی نسبت طے پا چکی تھی اور ان دونوں خاندانوں کو مال روڈ سے آرٹس کونسل جانے والی کسی الہڑ مٹیار کی زلف کی طرح بل کھاتی ہوئی سیڑھیوں پر بیٹھنے کے لئے اور مشترکہ عکس بندی کے لئے مجھے کہا گیا کہ اگر تھوڑی سی جائے عکس بندی با نقش سازی میسر ہو تو بہت مہربانی ہو گی جو کہ میں نے اپنی کوشش سے ایک زینہ خالی کراوایا (بعد ازاں شکیل صاحب نے رغبت مال کی کشش میں مال روڈ کو آرٹس کونسل سے ملانے والے پل کو پل صراط میں بدل دیا اور اس جگہ پر ایک ہوٹل تعمیر ہو چکا ہے)
ڈاکٹر حسن رضوی (میزبان مشاعرہ) جونہی مقامی شعراء کو سٹیج پر آنے کی دعوت دی تو علامہ مضطرعباسی، مرزا آصف بیگ، لطیف کاشمیری (مرحوم) خورشید انور کے بعد جناب سلیم شوالوی کا نام پکارا تو از حد خوشی ہوئی کہ ادیب (اداکار) کیطرح چہرے پر رعب و جلال والے شاعر کے کلام سے لطف اندوز ہونگے۔
سب سے آخر پر مجھ خاکسار اور میرے پی اے ایف کالج لوئر ٹوپہ کے رفیق کار پروفیسر ریاست علی خاطر کو بھی سٹیج پر بلایا گیا۔میرے لئے یہ پہلا اور آخری موقع تھا کہ اتنے بڑے قد آور شعراء کے عقب میں ان کے ساتھ بیٹھنے اور شعر پڑھنے کا موقع ملا۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب سلیم شوالوی صاحب کو اپنا کلام سنانے کیلئے بلایا گیا تو عطاء الحق قاسمی نے انہیں ایک اور غزل سنانے کی فرمائش کی۔ سیلم شوالوی کا کلام اگر چہ کتابی صورت میں نہیں آ سکا مگر جنھوں نے انہیں جس مشاعرے میں سنا ہے ان کے حافظے کی کتاب پر انمٹ نقوش کی طرح محفوظ ہے۔
ان کی شخصیت کا پہلا اور آخری کمال یہ تھا کہ وہ اپنی عزت اور احترام پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا ہم نے انہیں بک گیلری (یہ واحد بلڈنگ ہے جو کہ مری کی بلند و بالا عمارتوں کی طرح اصلی نقشے اور اصلی حالت میں موجود ہے اور مال روڈ پر اکلوتی اور ادبی کتب کی دوکان موجود ہے)
ؓبک گیلری میں جب آتے تھے محترم قمر صاحب کی دلنواز مسکراہٹ اپنی طرف راغب کرتی مگر سلیم صاحب اپنی جگہ پر براجمان ہوتے تھے کہ کتابوں کے پیچھے صرف ان کا چہرہ نظر آتا تھا گویا علم و ادب کی کتب میں انہوں نے اپنے آپ کو مجسمے کی طرح اپنی تنصیب کرا رکھی تھی جب کبھی ان سے کسی موضوع پر گفتگو ہوتی ان ساری گفتگو سے جس طرح غالب کو احساس غالب تھا اسی طرح سلیم شوالوی صاحب زعم اور اختلاف کے سب سے اونچے پہاڑ پر پایا۔ ان کی شخصیت یا صلاحیت دوحصے میں بٹی ہوئی تھی وہ اردو غزل اردو میں کہتے تھے مگر انگریزی اخبار “The Nation” میں مری کے بارے میں چیخیں نکلوادینے والی تحریریں آج بھی جن کے بارے میں یا جن پر لکھی میں ان کے علاوہ انگریزی اخبار کے قارئین کو بھی یاد ہوں گی۔ ان کی انگریزی اور نثر میں بے باک تحریروں کی وجہ سے بطور وزیرِ اعلیٰ پنجاب نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو جونہی مری آتے ان سے ضرور ملتے ان کی عزت و حمیت کا یہ عالم تھا کہ بن بلائے نہ کسی پروگرام میں گئے اور نہ ہی کسی حکمران سے ملنے کی جستجو کی۔ غالب کا سامزاج رکھنے والا یہ شخص اپنے پیچھے ایک ایسا روشن کردار چھوڑ گیا ہے کہ وہ مری کے جدا ہونے کا تصور بھی نہیں کرتے تھے مگر اپنے قریبی رشتہ داروں سے ناچاکی کی بدولت اپنے جیتے جی خود کشی جیسا فیصلہ کر لیاکہ مری کو ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ باد صرف اپنی رفیق حیات کی آخری رسومات کے لئے مری آئے یا پھر اس وقت جب وہ خود نہیں لائے گئے۔
ان کے شہر سے دوری کے فیصلے پر ارشد حنیف عباسی اور میں نے ایک پرگرام بنایا کہ شہر کی ایسی شخصیات پر مشتمل جرگہ بلکہ راولپنڈی جاتے ہیں جن کو خالی ہاتھ موڑنے یا انکار کی گنجائش نہیں ہو گی۔ بد قسمتی ملاحظہ کیجئے اپنی طرز کا منفرد شخصیت رکھنے والا ارشد حنیف عباسی (صدر انجمن تاجران)داغِ مفارقت دے گیا پھر کہا کہ احمد غنی اور دیگر دوستوں کے ساتھ جائیں گے اورانہیں منا کر لے آئیں گے مگر احمد غنی مری تو مری وہ تو زندگی سے ہی روٹھ گیا۔ پھر ہم ہاتھ ملتے رہ گئے کہ احمد غنی اور سلیم شوالوی کی ادبی چشمک پر احمد غنی نے ان پر ایک جمعہ کہا تھا کہ وہ ہے تو ایک کتب فروش مگر روئی اور برف کے گالوں کیطرح نرم اور سورج کی پہلی کرنوں کیطرح چہرے پر سجی ہوئی ایسی مسکراہٹ کے ساتھ سلیم کا آخری دیدار کیا تو بے اختیار منہ سے بے اختیار دل کی دھڑکنوں سے آواز سنائی دی کہ زندگی کے حسین بانکپن سے بھی حسین ترین سنگھار اور جسم و جاں سے پھوٹتی نورانیت اور شفافیت سے مزین صورت سے نور کا ہالہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ کتاب فروش ضرور تھا مگر ضمیر فروش نہیں تھا۔
یہ بھی دیکھا ہے کہ جب آ جائے غیرت کا مقام
اپنی سولی اپنے کاندھوں اٹھا لیتے ہیں لوگ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں